والدین کے حقوق

asak kya islam main yeh hai ki apnae walidaen ko zada ahimiyat daeina aur biwi bachcho ko un kae muqablaein main kum biwi ki ghalti na honae par maa baap y abahen bhai kae kahnae par maarna kya yeh islamic taur par sahi hai.
وعليكم السلام
باسمه تعالى
اسلام نے جھاں والدین کے حقوق بیان کیا ہے وہیں بیوی اور بچوں کے بھی حقوق بیان کیا ہے۔ یقینا والدین کے حقوق دوسرے کے حقوق کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت کا حامل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے پر ظلم کیا جائے اور ان کی حق تلفی کی جائے۔ اسلام نے ظلم کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی ہے لہذا بیوی کی غلطی نہ ہونے کی صورت میں صرف والدین کے کہنے پر اس کی مار پیٹائی کرنا غلط بات ہے۔ایسے حالات میں حکمت سے کام لینا پڑتا ہے کہ کہیں والدین کی دل آزاری ہو اور نہ دوسرے پر ظلم ہو۔ لیکن عام طور پر ساس ،بھو اور جٹھ آپس میں لڑٹی رہتی ہیں اور بھو سا س کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آتی ہے۔ ایسی صورت میں بیوی کو اخلاقیات کا درس دیا جائے اور سب کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کی نصیحت کی جائے۔
والله اعلم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: